لیٹ آرڈر کرنے کے باوجود اسرائیل کو سب سے پہلے کورونا وائرس کی لاکھوں ویکسین کیسے مل گئیں؟ جان کر آپ کو بھی اپنی حکومت پر افسوس ہوگا

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی ویکسین تیار ہوتے ہی اسرائیل نے بڑی مقدار میں یہ ویکسین حاصل کی اور فوج کی مدد سے اس کے محکمہ صحت نے دن رات ایک کرکے شہریوں کو ویکسین دینے کا عمل شروع کر دیا جو اب تک جاری ہے اور ویکسین تیار ہونے کے تین ہفتوں کے دوران اسرائیل کی 20فیصد سے زائد آبادی کو ویکسین دی جا چکی ہے۔ اسرائیلی محکمہ صحت کے اس قدر متحرک ہونے پر دنیا حیران رہ گئی تاہم اب اس حوالے سے مزید چشم کشا انکشافات سامنے آگئے ہیں۔

میل آن لائن کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ویکسین بنانے والی کمپنی فائزر کی طرف سے جب بتایا گیا کہ اس کی ویکسین کے ٹرائیلز کامیاب ہو رہے ہیں اور جلد ویکسین حتمی منظوری کے لیے بھیج دی جائے گی، اسی وقت اسرائیل نے کمپنی کے ساتھ ویکسین خریدنے کا معاہدہ کر لیا تھا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل سے بھی پہلے کئی ممالک یہ معاہدہ کر چکے تھے اور اسرائیل کا نمبر ان کے بعد آنا تھا لیکن اسرائیل نے پیسے دے کر باقی ممالک سے پہلے ویکسین حاصل کر لی۔

بتایاگیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جلدی اور زیادہ مقدار میں ویکسین حاصل کرنے کے لیے فائزر کے چیف ایگزیکٹو البرٹ بورلا کو چند دن کے اندر 17بار فون کال کی۔ رپورٹ کے مطابق ویکسین دوسرے ممالک سے پہلے اور زیادہ لینے کے لیے اسرائیل نے کمپنی کو 50فیصد زیادہ قیمت ادا کرنے کی پیشکش کی جو کمپنی نے قبول کر لی اور اس کو پہلے ویکسین دے دی۔ مبینہ طور پر برطانیہ فائزر سے ویکسین کی فی خوراک 30پاﺅنڈ میں خرید رہا ہے جبکہ اسرائیل کمپنی کو فی خوراک 45پاﺅنڈ دے رہا ہے۔ ویکسین خریدنے کے ساتھ اسرائیلی محکمہ صحت اس قدر متحرک ہے کہ تین ہفتوں کے دوران 18لاکھ اسرائیلیوں کو ویکسین دی جا چکی ہے۔ اس کام میں فوج کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے۔